ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صدر اوباما نے 102قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کر دی

صدر اوباما نے 102قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کر دی

Sat, 08 Oct 2016 12:08:31    S.O. News Service

نیویارک،7اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے صدر براک اوباما نے جمعرات کو ملک کی وفاقی جیلوں میں بند 102مجرموں کی سزاؤں میں کمی کر دی ہے۔صدر اوباما قبل ازیں بھی غیر متشدد جرائم میں ملوث مجرموں کی سزائیں معاف کر چکے ہیں۔ان مجرموں کی سزاؤں میں کمی کے سبب انہیں قید سے جلد رہائی مل جائے گی اور اسے صدر اوباما کی کم سے کم عرصے کی نامناسب سزاؤں کے معاملے کو درست کرنے کی طرف ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیر نیل ایگلسٹن نے جمعرات کو کہا کہ آج کی معافی سے (اب تک) صدر نے 774(مجرموں)کی سزاؤں میں کمی کی ہے جو گزشتہ 11صدور کی طرف سے دی جانے والی معافیوں سے زیادہ ہے۔رواں سال 590مجرموں کی سزاؤں میں کمی کر کے صدر اوباما نے ہماری تاریخ میں کسی بھی ایک سال کے دوران سب سے زیادہ لوگوں کی سزاؤں کو کم کیا ہے۔اوباما کی طرف سے منیشات کے استعمال کے غیر متشدد مجرموں کی سزاؤں کو کم کرنا ان کے اس واضح موقف کا مظہر ہے کہ ملک کو کئی دہائیوں سے سخت سزاؤں کے قوانین کے اثرات کو دور کرنا چاہئے۔اوباما نے قانون سازوں اور حکومتی عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ منشیات کے جرائم میں ملوث مجرموں کی سزاؤں کو بتدریج کم کرتے جائیں۔ ان کا موقف ہے کہ سخت سزائیں دینے کے ایسے طرز عمل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت اس طرح کی قید کی شرح کی مثال ترقی یافتہ ملکوں میں نہیں ملتی۔محکمہ انصاف نے حالیہ سالوں میں استغاثہ کو کم سے کم سخت سزاؤں کے معاملے سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں انہیں صدر کی حمایت بھی حاصل ہے۔امریکی صدور عموماً اپنی مدت صدارت کے اواخر میں سزاؤں کو کم کرنے یا معافی دینے کے اپنے اختتار کو زیادہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں تیزی سے پیش رفت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اوباما جنوری 2017میں وائٹ ہاؤس چھوڑ نہیں دیتے۔


Share: